بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: غزوات کے بیان میں باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q4147 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ سورة الفتح آية 18
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الفتح میں) ارشاد «لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة» بیشک اللہ تعالیٰ مومنین سے راضی ہو گیا جب انہوں نے آپ سے درخت کے نیچے بیعت کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4147]
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 4147 صحیح بخاری
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ , فَأَصَابَنَا مَطَرٌ ذَاتَ لَيْلَةٍ , فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ , ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , فَقَالَ:" قَالَ اللَّهُ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِي , فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَبِرِزْقِ اللَّهِ وَبِفَضْلِ اللَّهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ , وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَجْمِ كَذَا فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حدیبیہ کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ایک دن، رات کو بارش ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھانے کے بعد ہم سے خطاب کیا اور دریافت فرمایا کہ معلوم ہے تمہارے رب نے کیا کہا؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندوں نے اس حالت میں صبح کی کہ ان کا ایمان مجھ پر تھا اور کچھ نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ میرا انکار کئے ہوئے تھے۔ تو جس نے کہا کہ ہم پر یہ بارش اللہ کے رزق ‘ اللہ کی رحمت اور اللہ کے فضل سے ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستارے کا انکار کرنے والا ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ بارش فلاں ستارے کی تاثیر سے ہوئی ہے تو وہ ستاروں پر ایمان لانے والا اور میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4147]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4148 صحیح بخاری
هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَخْبَرَهُ قَالَ:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلَّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ , إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ , وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ , وَعُمْرَةً مِنْ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار عمرے کئے اور سوا اس عمرے کے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج کے ساتھ کیا ‘ تمام عمرے ذیقعدہ (کے مہینے) میں کئے۔ حدیبیہ کا عمرہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذی قعدہ (کے مہینے) میں کرنے تشریف لے گئے پھر دوسرے سال (اس کی قضاء میں) آپ نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا اور ایک عمرہ جعرانہ سے آپ نے کیا تھا ‘ جہاں غزوہ حنین کی غنیمت آپ نے تقسیم کی تھی۔ یہ بھی ذی قعدہ میں کیا تھا اور ایک عمرہ حج کے ساتھ کیا (جو ذی الحجہ میں کیا تھا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4148]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4149 صحیح بخاری
سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبَاهُ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , قَالَ:" انْطَلَقْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ أُحْرِمْ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ صلح حدیبیہ کے سال روانہ ہوئے ‘ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے احرام باندھ لیا تھا لیکن میں نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4149]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4150 صحیح بخاری
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا , وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ , كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا , فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهَا فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا , ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ , فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا , ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ إِنَّهَا أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ‘ تم لوگ (سورۃ انا فتحنا میں) فتح سے مراد مکہ کی فتح لیتے ہو۔ فتح مکہ تو بہرحال فتح ہی تھی لیکن ہم غزوہ حدیبیہ کی بیعت رضوان کو حقیقی فتح سمجھتے ہیں۔ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چودہ سو آدمی تھے۔ حدیبیہ نامی ایک کنواں وہاں پر تھا ‘ ہم نے اس میں سے اتنا پانی کھینچا کہ اس کے اندر ایک قطرہ بھی پانی باقی نہ رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب یہ خبر ہوئی (کہ پانی ختم ہو گیا ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر کسی ایک برتن میں پانی طلب فرمایا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر سارا پانی اس کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم نے کنویں کو یوں ہی رہنے دیا اور اس کے بعد جتنا ہم نے چاہا اس میں سے پانی پیا اور اپنی سواریوں کو پلایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4150]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4151 صحیح بخاری
فَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَرَّانِيّ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ
حَدَّثَنِي فَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَرَّانِيّ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ أَوْ أَكْثَرَ , فَنَزَلُوا عَلَى بِئْرٍ فَنَزَحُوهَا , فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَتَى الْبِئْرَ وَقَعَدَ عَلَى شَفِيرِهَا , ثُمَّ قَالَ:" ائْتُونِي بِدَلْوٍ مِنْ مَائِهَا" , فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ فَدَعَا ثُمَّ قَالَ:" دَعُوهَا سَاعَةً" , فَأَرْوَوْا أَنْفُسَهُمْ وَرِكَابَهُمْ حَتَّى ارْتَحَلُوا.
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا ‘ ہم سے حسن بن محمد بن اعین ابوعلی حرانی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ ہمیں براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ لوگ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک ہزار چار سو کی تعداد میں تھے یا اس سے بھی زیادہ۔ ایک کنویں پر پڑاؤ ہوا لشکر نے اس کا (سارا) پانی کھینچ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کنویں کے پاس تشریف لائے اور اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ ایک ڈول میں اسی کنویں کا پانی لاؤ۔ پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر فرمایا کہ کنویں کو یوں ہی تھوڑی دیر کے لیے رہنے دو۔ اس کے بعد سارا لشکر خود بھی سیراب ہوتا رہا اور اپنی سواریوں کو بھی خوب پلاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہاں سے انہوں نے کوچ کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4151]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4152 صحیح بخاری
يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، حُصَيْنٌ ، سَالِمٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا , ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ نَحْوَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكُمْ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا فِي رَكْوَتِكَ , قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ , قَالَ: فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا , فَقُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے ‘ کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر سارا ہی لشکر پیاسا ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل تھا ‘ اس کے پانی سے آپ نے وضو کیا۔ پھر صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ صحابہ بولے کہ یا رسول اللہ! ہمارے پاس اب پانی نہیں رہا ‘ نہ وضو کرنے کے لیے اور نہ پینے کے لیے۔ سوا اس پانی کے جو آپ کے برتن میں موجود ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھا اور پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر ابلنے لگا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم نے پانی پیا بھی اور وضو بھی کیا۔ (سالم کہتے ہیں کہ) میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے بتلایا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو بھی وہ پانی کافی ہو جاتا۔ ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4152]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4153 صحیح بخاری
الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو دَاوُدَ ، قُرَّةُ ، قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , بَلَغَنِي أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , كَانَ يَقُولُ:" كَانُوا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً" , فَقَالَ لِي سَعِيدٌ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ:" كَانُوا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً الَّذِينَ بَايَعُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ. تَابَعَهُ أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا قُرَّةُ , عَنْ قَتَادَةَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے کہ میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا ‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ (حدیبیہ کی صلح کے موقع پر) صحابہ کی تعداد چودہ سو تھی۔ اس پر سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا اس موقع پر پندرہ سو صحابہ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حدیبیہ میں بیعت کی تھی۔ ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، ہم سے قرۃ بن خالد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور محمد بن بشار نے بھی ابوداؤد طیالسی کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4153]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4154 صحیح بخاری
عَلِيٌّ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، الْأَعْمَشُ ، سَالِمًا ، جَابِرًا
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ عَمْرٌو , سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ:" أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ" , وَكُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ وَلَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ الْيَوْمَ لَأَرَيْتُكُمْ مَكَانَ الشَّجَرَةِ. تَابَعَهُ الْأَعْمَشُ , سَمِعَ سَالِمًا , سَمِعَ جَابِرًا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ حدیبیہ کے موقع پر فرمایا تھا کہ تم لوگ تمام زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔ ہماری تعداد اس موقع پر چودہ سو تھی۔ اگر آج میری آنکھوں میں بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کا مقام دکھاتا۔ اس روایت کی متابعت اعمش نے کی، ان سے سالم نے سنا اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ چودہ سو صحابہ غزوہ حدیبیہ میں تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4154]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4155 صحیح بخاری
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ
وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ , وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ. تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ.
ترجمہ: مولانا داود راز
اور عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ ان سے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ درخت والوں (بیعت رضوان کرنے والوں) کی تعداد تیرہ سو تھی۔ قبیلہ اسلم مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔ اس روایت کی متابعت محمد بن بشار نے کی ‘ ان سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا اور ان سے شعبہ نے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4155]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة