بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: (اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں، اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں“۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: غزوات کے بیان میں باب: (اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں، اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں“۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q4069 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قَالَ حُمَيْدٌ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ شُجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: «كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ» . فَنَزَلَتْ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ}.
‏‏‏‏ حمید اور ثابت بنانی نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک میں زخم آ گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کو زخمی کر دیا۔ اس پر (آیت) «ليس لك من الأمر شىء» نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4069]
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 4069 صحیح بخاری
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا» . بَعْدَ مَا يَقُولُ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» . فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یحییٰ بن عبداللہ سلمی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی آخری رکعت کے رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو یہ دعا کرتے اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں (صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام) کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔ یہ دعا آپ «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کے بعد کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ليس لك من الأمر شىء‏» سے «فإنهم ظالمون‏» (آل عمران: 128) تک نازل کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4069]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4070 صحیح بخاری
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَسُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَالْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَزَلَتْ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}.
ترجمہ: مولانا داود راز
اور حنظلہ بن ابی سفیان سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے لیے بددعا کرتے تھے اس پر یہ آیت «ليس لك من الأمر شىء‏» سے «فإنهم ظالمون‏» تک نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4070]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة