بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت باب: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q3746 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قَالَ نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَانَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ.
اور نافع بن جبیر نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: Q3746]
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 3746 صحیح بخاری
صَدَقَةُ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبُو مُوسَى ، الْحَسَنِ ، أَبَا بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، عَنْ الْحَسَنِ، سَمِعَ أَبَا بَكْرَةَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ إِلَى جَنْبِهِ يَنْظُرُ إِلَى النَّاسِ مَرَّةً وَإِلَيْهِ مَرَّةً، وَيَقُولُ:" ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوموسیٰ نے بیان کیا، ان سے حسن نے، انہوں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور پھر حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اور فرماتے: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3746]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3747 صحیح بخاری
مُسَدَّدٌ ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِي ، أَبُو عُثْمَانَ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عنهما , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُهُ وَالْحَسَنَ، وَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا" , أَوْ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اور حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر یہ دعا کرتے تھے «اللهم إني أحبهما فأحبهما» اے اللہ! مجھے ان سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت رکھ۔ «أو كما قال‏.‏» ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3747]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3748 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ، بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَام فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ، وَقَالَ: فِي حُسْنِهِ شَيْئًا، فَقَالَ أَنَسٌ:" كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسْمَةِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حسین بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ جب حسین علیہ السلام کا سر مبارک عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا اور ایک طشت میں رکھ دیا گیا تو وہ بدبخت اس پر لکڑی سے مارنے لگا اور آپ کے حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بھی کچھ کہا (کہ میں نے اس سے زیادہ خوبصورت چہرہ نہیں دیکھا) اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا حسین علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔ انہوں نے «وسمة‏.‏» کا خضاب استعمال کر رکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3748]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3749 صحیح بخاری
حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، شُعْبَةُ ، عَدِيٌّ ، الْبَرَاءَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عدی نے خبر دی، کہا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ حسن رضی اللہ عنہ آپ کے کاندھے مبارک پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرما رہے تھے اے اللہ! مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اس سے محبت رکھ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3749]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3750 صحیح بخاری
عَبْدَانُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبَا بَكْرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَمَلَ الْحَسَنَ وَهُوَ، يَقُولُ: بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ , لَيْسَ شَبِيهٌ بِعَلِيٍّ , وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: میرے باپ ان پر فدا ہوں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشابہ ہیں، علی سے نہیں اور علی رضی اللہ عنہ مسکرا رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3750]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3751 صحیح بخاری
يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَصَدَقَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ ، أَبُو بَكْرٍ
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ , وَصَدَقَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ:" ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے یحییٰ بن معین اور صدقہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں واقد بن محمد نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کی خوشنودی) کو آپ کے اہل بیت کے ساتھ (محبت و خدمت کے ذریعہ) تلاش کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3751]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3752 صحیح بخاری
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسٌ
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے، اور عبدالرزاق نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ اور کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ مشابہ نہیں تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3752]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3753 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، ابْنَ أَبِي نُعْمٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ , سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , وَسَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ، فَقَالَ: أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے، انہوں نے ابن ابی نعم سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اور کسی نے ان سے محرم کے بارے میں پوچھا تھا، شعبہ نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ پوچھا تھا کہ اگر کوئی شخص (احرام کی حالت میں) مکھی مار دے تو اسے کیا کفارہ دینا پڑے گا؟ اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عراق کے لوگ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ یہی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے کو قتل کر چکے ہیں، جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دونوں (نواسے حسن و حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3753]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة