مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حُصَيْنٌ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رِكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ، فَجَهِشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ، قَالُوا: لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الرِّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَثُورُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا، قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ، لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل رکھا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جو پانی آپ کے سامنے ہے، اس پانی کے سوا نہ تو ہمارے پاس وضو کے لیے کوئی دوسرا پانی ہے اور نہ پینے کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ چھاگل میں رکھ دیا اور پانی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے چشمے کی طرح پھوٹنے لگا اور ہم سب لوگوں نے اس پانی کو پیا بھی اور اس سے وضو بھی کیا۔ میں نے پوچھا آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ کہا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی کافی ہوتا۔ ویسے ہماری تعداد اس وقت پندرہ سو تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3576]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة