بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حبشہ کے لوگوں کا بیان۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: فضیلتوں کے بیان میں باب: حبشہ کے لوگوں کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q3529 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بَنِي أَرْفَدَةَ» .
‏‏‏‏ اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اے بنی ارفدہ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: Q3529]
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3529 صحیح بخاری
يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ وَتُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ: دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ أَيَّامُ مِنًى.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں (انصار کی) دو لڑکیاں دف بجا کر گا رہی تھیں۔ یہ حج کے ایام منیٰ کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روئے مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا ابوبکر! انہیں چھوڑ دو، یہ عید کے دن ہیں، یہ منیٰ میں ٹھہرنے کے دن تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3529]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3530 صحیح بخاری
وَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُمْ أَمْنًا بَنِي أَرْفِدَةَ يَعْنِي مِنَ الْأَمْنِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ کو پردہ میں رکھے ہوئے ہیں اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو نیزوں کا کھیل مسجد میں کر رہے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو، بنی ارفدہ تم بےفکر ہو کر کھیلو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3530]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة