بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اپنے مسلمان یا غیر مسلم باپ دادوں کی طرف اپنی نسبت کرنا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: فضیلتوں کے بیان میں باب: اپنے مسلمان یا غیر مسلم باپ دادوں کی طرف اپنی نسبت کرنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q3525 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ: ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ، وَقَالَ الْبَرَاءُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.
اور عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام تھے۔ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: Q3525]
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3525 صحیح بخاری
عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُنَادِي يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي عَدِيٍّ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب (سورۃ الشعراء کی) یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين‏» اے پیغمبر! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریش کے مختلف قبیلوں کو بلایا اے بنی فہر! اے بنی عدی! جو قریش کے خاندان تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3525]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3526 صحیح بخاری
قَبِيصَةُ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وَقَالَ لَنَا قَبِيصَةُ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ قَبَائِلَ قَبَائِلَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
(امام بخاری رحمہ اللہ نے) کہا کہ ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، انہیں سفیان نے خبر دی، انہیں حبیب بن ابی ثابت نے، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب یہ آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين‏» اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔ اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے الگ الگ قبائل کو دعوت دی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3526]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3527 صحیح بخاری
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، أَبُو الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، يَا أُمَّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ اشْتَرِيَا أَنْفُسَكُمَا مِنَ اللَّهِ لَا أَمْلِكُ لَكُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا سَلَانِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم کو ابوالزناد نے خبر دی، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عبدمناف کے بیٹو! اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لو (یعنی نیک کام کر کے انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لو)۔ اے عبدالمطلب کے بیٹو! اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو۔ اے زبیر بن عوام کی والدہ! رسول اللہ کی پھوپھی، اے فاطمہ بنت محمد! تم دونوں اپنی جانوں کو اللہ سے بچا لو۔ میں تمہارے لیے اللہ کی بارگاہ میں کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ تم دونوں میرے مال میں جتنا چاہو مانگ سکتی ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3527]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة