بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
|
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: (سورۃ الاعراف میں) طوفان سے مراد سیلاب کا طوفان ہے۔
Sahih al-Bukhari
يُقَالُ لِلْمَوْتِ الْكَثِيرِ طُوفَانٌ الْقُمَّلُ الْحُمْنَانُ يُشْبِهُ صِغَارَ الْحَلَمِ حَقِيقٌ سورة الأعراف آية 105 حَقٌّ سُقِطَ سورة الأعراف آية 149 كُلُّ مَنْ نَدِمَ فَقَدْ سُقِطَ فِي يَدِهِ.
بکثرت اموات کو بھی طوفان کہتے ہیں۔ «القمل» اس چیچڑی کو کہتے ہیں جو چھوٹی جوں کے مشابہ ہوتی ہے۔ «حقيق» بمعنی «حق» لازم۔ «سقط» بمعنی نادم ہوا۔ جو شخص شرمندہ ہوتا ہے اس کے لیے عرب لوگ کہتے ہیں «سقط في يده.» تو (گویا) وہ اپنے ہاتھ میں گر پڑا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: Q3400]