بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
|
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: (سورۃ مریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ”اور یاد کرو کتاب میں موسیٰ علیہ السلام کو کہ وہ چنا ہوا بندہ، رسول و نبی تھا اور ہم نے طور کی داہنی طرف سے انہیں آواز دی اور سرگوشی کے لیے انہیں نزدیک بلایا“۔
Sahih al-Bukhari
کتب←
صحیح بخاری←
کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں←
باب: (سورۃ مریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ”اور یاد کرو کتاب میں موسیٰ علیہ السلام کو کہ وہ چنا ہوا بندہ، رسول و نبی تھا اور ہم نے طور کی داہنی طرف سے انہیں آواز دی اور سرگوشی کے لیے انہیں نزدیک بلایا“۔
وَوَهَبْنَا لَهُ مِنْ رَحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا سورة مريم آية 53 يُقَالُ لِلْوَاحِدِ وَللْاثْنَيْنِ وَالْجَمِيعِ نَجِيٌّ وَيُقَالُ خَلَصُوا نَجِيًّا اعْتَزَلُوا نَجِيًّا وَالْجَمِيعُ أَنْجِيَةٌ يَتَنَاجَوْنَ.
اور ان کے لیے اپنی مہربانی سے ہم نے ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو نبی بنایا۔ واحد ‘ تثنیہ اور جمع سب کے لیے لفظ «نجي.» بولا جاتا ہے۔ سورۃ یوسف میں ہے۔ «خلصوا نجيا.» یعنی اکیلے میں جا کر مشورہ کرنے لگے (اگر «نجي.» کا لفظ مفرد کے لیے استعمال ہوا ہو تو) اس کی جمع «أنجية» ہو گی۔ سورۃ المجادلہ میں لفظ «يتناجون» بھی اسی سے نکلا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: Q3392]