قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَاتِمٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَنْتَضِلُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ، قَالَ: فَأَمْسَكَ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكُمْ لَا تَرْمُونَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ، قَالَ: ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبیلہ اسلم کی ایک جماعت سے گزرے جو تیر اندازی میں مقابلہ کر رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کئے جاؤ کیونکہ تمہارے بزرگ دادا بھی تیرانداز تھے اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔“ راوی نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی دوسرے فریق نے تیر اندازی بند کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”کیا بات ہوئی ‘ تم لوگ تیر کیوں نہیں چلاتے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ فریق مقابل کے ساتھ ہو گئے تو اب ہم کس طرح تیر چلا سکتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”مقابلہ جاری رکھو ‘ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3373]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة