يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، اللَّيْثُ ، يُونُسَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ، أَخْبَرَهُ:" أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا تِجَارًا بِالشَّأْمِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي مَادَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، اور انہیں ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہرقل (فرمانروائے روم) نے انہیں قریش کے قافلے کے ساتھ بلا بھیجا (یہ لوگ شام اس زمانے میں تجارت کی غرض سے گئے ہوئے تھے۔) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوسفیان سے (صلح حدیبیہ میں) قریش کے کافروں کے مقدمہ میں صلح کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3174]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة