| # | باب | احادیث | دیکھیں |
|---|---|---|---|
| 1 |
باب: خمس کے فرض ہونے کا بیان۔
بَابُ فَرْضِ الْخُمُسِ:
|
3091 – 3094 | احادیث |
| 2 |
باب: مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا دین ایمان میں داخل ہے۔
بَابُ أَدَاءُ الْخُمُسِ مِنَ الدِّينِ:
|
3095 | احادیث |
| 3 |
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی ازواج مطہرات کے نفقہ کا بیان۔
بَابُ نَفَقَةِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاتِهِ:
|
3096 – 3098 | احادیث |
| 4 |
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھروں اور ان گھروں کا انہی کی طرف منسوب کرنے کا بیان۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا نُسِبَ مِنَ الْبُيُوتِ إِلَيْهِنَّ:
|
Q3099 – 3105 | احادیث |
| 5 |
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ، عصاء مبارک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار، پیالہ اور انگوٹھی کا بیان۔
بَابُ مَا ذُكِرَ مِنْ دِرْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَصَاهُ وَسَيْفِهِ وَقَدَحِهِ وَخَاتَمِهِ:
|
Q3106 – 3112 | احادیث |
| 6 |
باب: اس بات کی دلیل کہ غنیمت کا پانچواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کی ضرورتوں (جیسے ضیافت مہمان، سامان جہاد کی تیاری وغیرہ) اور محتاجوں کے لیے تھا۔
بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَسَاكِينِ:
|
Q3113 – 3113 | احادیث |
| 7 |
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد (سورۃ الانفال میں) کہ جو کچھ تم غنیمت میں حاصل کرو، بیشک اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تقسیم کریں گے۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ} :
|
Q3114 – 3118 | احادیث |
| 8 |
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تمہارے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُحِلَّتْ لَكُمُ الْغَنَائِمُ»:
|
Q3119 – 3124 | احادیث |
| 9 |
باب: مال غنیمت ان لوگوں کو ملے گا جو جنگ میں حاضر ہوں۔
بَابُ الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ:
|
3125 | احادیث |
| 10 |
باب: اگر کوئی غنیمت حاصل کرنے کے لیے لڑے مگر نیت ترقی دین کی بھی ہو تو کیا ثواب کم ہو گا؟
بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِلْمَغْنَمِ هَلْ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ:
|
3126 | احادیث |
| 11 |
باب: خلیفہ المسلمین کے پاس غیر لوگ جو تحائف بھیجیں ان کا بانٹ دینا اور ان میں سے جو لوگ موجود نہ ہوں ان کا حصہ چھپا کر محفوظ رکھنا۔
بَابُ قِسْمَةِ الإِمَامِ مَا يَقْدَمُ عَلَيْهِ، وَيَخْبَأُ لِمَنْ لَمْ يَحْضُرْهُ أَوْ غَابَ عَنْهُ:
|
3127 | احادیث |
| 12 |
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کی جائیداد کس طرح تقسیم کی تھی؟ اور اپنی ضرورتوں میں ان کو کیسے خرچ کیا؟
بَابُ كَيْفَ قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ، وَمَا أَعْطَى مِنْ ذَلِكَ فِي نَوَائِبِهِ:
|
3128 | احادیث |
| 13 |
باب: اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کرام کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے بادشاہان اسلام کے ساتھ ہو کر لڑے کیسی برکت دی تھی، اس کا بیان۔
بَابُ بَرَكَةِ الْغَازِي فِي مَالِهِ حَيًّا وَمَيِّتًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُلاَةِ الأَمْرِ:
|
3129 | احادیث |
| 14 |
باب: اگر امام کسی شخص کو سفارت پر بھیجے یا کسی خاص جگہ ٹھہرنے کا حکم دے تو کیا اس کا بھی حصہ (غنیمت میں) ہو گا؟
بَابُ إِذَا بَعَثَ الإِمَامُ رَسُولاً فِي حَاجَةٍ أَوْ أَمَرَهُ بِالْمُقَامِ هَلْ يُسْهَمُ لَهُ:
|
3130 | احادیث |
| 15 |
باب: اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے ہے وہ واقعہ ہے کہ ہوازن کی قوم نے اپنے دودھ ناطے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، ان کے مال قیدی واپس ہوں تو آپ نے لوگوں سے معاف کرایا کہ اپنا حق چھوڑ دو۔
بَابُ وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ الْمُسْلِمِينَ مَا سَأَلَ هَوَازِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَضَاعِهِ فِيهِمْ فَتَحَلَّلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ:
|
Q3131 – 3138 | احادیث |
| 16 |
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان رکھ کر قیدیوں کو مفت چھوڑ دینا، اور خمس وغیرہ نہ نکالنا۔
بَابُ مَا مَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الأُسَارَى مِنْ غَيْرِ أَنْ يُخَمَّسَ:
|
3139 | احادیث |
| 17 |
باب: اس کی دلیل کہ خمس میں امام کو اختیار ہے وہ اسے اپنے بعض (مستحق) رشتہ داروں کو بھی دے سکتا ہے اور جس کو چاہے نہ دے، دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے خمس میں سے بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو دیا (اور دوسرے قریش کو نہ دیا)۔
بَابُ وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِلإِمَامِ وَأَنَّهُ يُعْطِي بَعْضَ قَرَابَتِهِ دُونَ بَعْضٍ مَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي الْمُطَّلِبِ وَبَنِي هَاشِمٍ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ:
|
Q3140 – 3140 | احادیث |
| 18 |
باب: جو کوئی مقتول کافروں کے ساز و سامان میں خمس نہ دے۔
بَابُ مَنْ لَمْ يُخَمِّسِ الأَسْلاَبَ:
|
Q3141 – 3142 | احادیث |
| 19 |
باب: تالیف قلوب کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض کافروں وغیرہ نو مسلموں یا پرانے مسلمانوں کو خمس میں سے دینا۔
بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ:
|
Q3143 – 3152 | احادیث |
| 20 |
باب: اگر کھانے کی چیزیں کافروں کے ملک میں ہاتھ آ جائیں۔
بَابُ مَا يُصِيبُ مِنَ الطَّعَامِ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ:
|
3153 – 3155 | احادیث |