مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ ، عَبْدَانُ ، أَبِي حَمْزَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اكْتُبُوا لِي مَنْ تَلَفَّظَ بِالْإِسْلَامِ مِنَ النَّاسِ فَكَتَبْنَا لَهُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةِ رَجُلٍ فَقُلْنَا نَخَافُ وَنَحْنُ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا ابْتُلِينَا حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي وَحْدَهُ وَهُوَ خَائِفٌ"، حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ فَوَجَدْنَاهُمْ خَمْسَ مِائَةٍ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: مَا بَيْنَ سِتِّ مِائَةٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ اسلام کا کلمہ پڑھ چکے ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ ہم نے ڈیڑھ ہزار مردوں کے نام لکھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا ہماری تعداد ڈیڑھ ہزار ہو گئی ہے۔ اب ہم کو کیا ڈر ہے۔ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد) ہم فتنوں میں اس طرح گھر گئے کہ اب مسلمان تنہا نماز پڑھتے ہوئے بھی ڈرنے لگا ہے۔ ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ نے اور ان سے اعمش نے (مذکورہ بالا سند کے ساتھ) کہ ہم نے پانچ سو مسلمانوں کی تعداد لکھی (ہزار کا ذکر اس روایت میں نہیں ہوا) اور ابومعاویہ نے (اپنی روایت میں) یوں بیان کیا ‘ کہ چھ سو سے سات سو تک۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3060]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة