بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اونٹوں کی گردن میں گھنٹی وغیرہ جس سے آواز نکلے لٹکانا کیسا ہے؟
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: جہاد کا بیان باب: اونٹوں کی گردن میں گھنٹی وغیرہ جس سے آواز نکلے لٹکانا کیسا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3005 صحیح بخاری
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا" أَنْ لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں عباد بن تمیم نے اور انہیں ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ عبداللہ (عبداللہ بن ابی بکر بن حزم راوی حدیث) نے کہا کہ میرا خیال ہے ابوبشیر نے کہا کہ لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ایک قاصد (زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ) یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جس شخص کے اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا ہو یا یوں فرمایا کہ گنڈا (ہار) ہو وہ اسے کاٹ ڈالے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3005]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة