آدَمُ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ وَكَانَ لَا يُتَّهَمُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ:" أَحَيٌّ وَالِدَاكَ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے کہا، ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوالعباس (شاعر ہونے کے ساتھ) روایت حدیث میں بھی ثقہ اور قابل اعتماد تھے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا ”کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟“ انہوں نے کہا کہ جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”پھر انہیں میں جہاد کرو۔ (یعنی ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرو)۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3004]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة