بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مصحف یعنی لکھا ہوا قرآن شریف لے کر دشمن کے ملک میں جانا منع ہے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: جہاد کا بیان باب: مصحف یعنی لکھا ہوا قرآن شریف لے کر دشمن کے ملک میں جانا منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q2990 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكَذَلِكَ يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَابَعَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَدْ سَافَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ، وَهُمْ يَعْلَمُونَ الْقُرْآنَ".
‏‏‏‏ اور محمد بن بشر سے اسی طرح مروی ہے۔ وہ عبیداللہ سے روایت کرتے ہیں، وہ نافع سے وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اور عبیداللہ کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن اسحاق نے بھی نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ دشمنوں کے علاقے میں سفر کیا، حالانکہ وہ سب حضرات قرآن مجید کے عالم تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: Q2990]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2990 صحیح بخاری
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى" أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ".
ترجمہ: مولانا داود راز
سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانے سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2990]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة