بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: خوف کے موقع پر جلدی سے گھوڑے کو ایڑ لگانا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: جہاد کا بیان باب: خوف کے موقع پر جلدی سے گھوڑے کو ایڑ لگانا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2969 صحیح بخاری
الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فَزِعَ النَّاسُ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ بَطِيئًا، ثُمَّ خَرَجَ يَرْكُضُ وَحْدَهُ فَرَكِبَ النَّاسُ يَرْكُضُونَ خَلْفَهُ، فَقَالَ:" لَمْ تُرَاعُوا إِنَّهُ لَبَحْرٌ فَمَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے محمد نے ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (مدینہ میں) لوگوں میں دہشت پھیل گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر جو بہت سست تھا، سوا ر ہوئے اور تنہا ایڑ لگاتے ہوئے آگے بڑھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے پیچھے سوار ہو کر نکلے۔ اس کے بعد واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ خوفزدہ ہونے کی کوئی بات نہیں ہے، البتہ یہ گھوڑا دریا ہے۔ اس دن کے بعد پھر وہ گھوڑا (دوڑ وغیرہ کے موقع پر) کبھی پیچھے نہیں رہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2969]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة