بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: لڑائی سے نہ بھاگنے پر اور بعضوں نے کہا مر جانے پر بیعت کرنا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: جہاد کا بیان باب: لڑائی سے نہ بھاگنے پر اور بعضوں نے کہا مر جانے پر بیعت کرنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q2958 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى الْمَوْتِ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ}.
‏‏‏‏ اور بعض نے کہا کہ موت پر (بیعت کی) کیوں کہ اللہ پاک نے سورۃ الفتح میں فرمایا «لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة‏» بیشک اللہ مسلمانوں سے راضی ہو چکا ہے جب وہ درخت (شجرۃ رضوان) کے نیچے تیرے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: Q2958]
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 2958 صحیح بخاری
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، جُوَيْرِيَةُ ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، رَجَعْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَمَا اجْتَمَعَ مِنَّا اثْنَانِ عَلَى الشَّجَرَةِ الَّتِي بَايَعْنَا تَحْتَهَا كَانَتْ رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ، فَسَأَلْتُ نَافِعًا عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعَهُمْ عَلَى الْمَوْتِ، قَالَ: لَا بَلْ بَايَعَهُمْ عَلَى الصَّبْرِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ (صلح حدیبیہ کے بعد) جب ہم دوسرے سال پھر آئے، تو ہم میں سے (جنہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی تھی) دو شخص بھی اس درخت کی نشان دہی پر متفق نہیں ہو سکے۔ جس کے نیچے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی تھی اور یہ صرف اللہ کی رحمت تھی۔ جویریہ نے کہا، میں نے نافع سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ سے کس بات پر بیعت کی تھی، کیا موت پر لی تھی؟ فرمایا کہ نہیں، بلکہ صبر و استقامت پر بیعت لی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2958]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2959 صحیح بخاری
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وُهَيْبٌ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ زَمَنُ الْحَرَّةِ أَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ ابْنَ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ عَلَى الْمَوْتِ، فَقَالَ: لَا أُبَايِعُ عَلَى هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حرہ کی لڑائی کے زمانہ میں ایک صاحب ان کے پاس آئے اور کہا کہ عبداللہ بن حنظلہ لوگوں سے (یزید کے خلاف) موت پر بیعت لے رہے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اب میں موت پر کسی سے بیعت نہیں کروں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2960 صحیح بخاری
الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَدَلْتُ إِلَى ظِلِّ الشَّجَرَةِ فَلَمَّا خَفَّ النَّاسُ، قَالَ:" يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ أَلَا تُبَايِعُ، قَالَ: قُلْتُ: قَدْ بَايَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَأَيْضًا فَبَايَعْتُهُ الثَّانِيَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تُبَايِعُونَ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، اور ان سے سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا (حدیبیہ کے موقع پر) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی۔ پھر ایک درخت کے سائے میں آ کر کھڑا ہو گیا۔ جب لوگوں کا ہجوم کم ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا، ابن الاکوع کیا بیعت نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں تو بیعت کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، دوبارہ اور بھی! چنانچہ میں نے دوبارہ بیعت کی (یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ) میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا، ابومسلم اس دن آپ حضرات نے کس بات پر بیعت کی تھی؟ کہا کہ موت پر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2960]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2961 صحیح بخاری
حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَتْ الْأَنْصَارُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ تَقُولُ: نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا حَيِينَا أَبَدَا فَأَجَابَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَكْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا۔ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ بیان کرتے تھے کہ انصار خندق کھودتے ہوئے (غزوہ خندق کے موقع پر) کہتے تھے «نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا أبدا» ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے، جب تک ہمارے جسم میں جان ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2961]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2962 صحیح بخاری
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي عُثْمَانَ ، مُجَاشِعٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاشِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَخِي، فَقُلْتُ: بَايِعْنَا عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا"، فَقُلْتُ: عَلَامَ تُبَايِعُنَا، قَالَ:" عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا، انہوں نے عاصم سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے، اور ان سے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ (فتح مکہ کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت تو (مکہ کے فتح ہونے کے بعد، وہاں سے) ہجرت کر کے آنے والوں پر ختم ہو گئی۔ میں نے عرض کیا، پھر آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام اور جہاد پر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2962]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2963 صحیح بخاری
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي عُثْمَانَ ، مُجَاشِعٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاشِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَخِي، فَقُلْتُ: بَايِعْنَا عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا"، فَقُلْتُ: عَلَامَ تُبَايِعُنَا، قَالَ:" عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا، انہوں نے عاصم سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے، اور ان سے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ (فتح مکہ کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت تو (مکہ کے فتح ہونے کے بعد، وہاں سے) ہجرت کر کے آنے والوں پر ختم ہو گئی۔ میں نے عرض کیا، پھر آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام اور جہاد پر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2963]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة