مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، زُهَيْرٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ ، مُوسَى ، حَمَّادٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ لَا تُسْبَقُ، قَالَ حُمَيْدٌ:" أَوْ لَا تَكَادُ تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حَتَّى عَرَفَهُ، فَقَالَ: حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ"، طَوَّلَهُ مُوسَى، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی یا حمید نے یوں کہا وہ پیچھے رہ جانے کے قریب نہ ہوتی پھر ایک دیہاتی ایک نوجوان ایک قوی اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی سے ان کا اونٹ آگے نکل گیا۔ مسلمانوں پر یہ بڑا شاق گزرا لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند ہوتی ہے (کبھی کبھی) اسے وہ گراتا بھی ہے۔ موسیٰ نے حماد سے اس کی روایت طول کے ساتھ کی ہے، حماد نے ثابت سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2872]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة