بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد (سورۃ نساء میں) کہ ”بیشک وہ لوگ جو یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھا جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں، وہ ضرور دہکتی ہوئی آگ ہی میں جھونک دیئے جائیں گے“۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: وصیتوں کے مسائل کا بیان باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد (سورۃ نساء میں) کہ ”بیشک وہ لوگ جو یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھا جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں، وہ ضرور دہکتی ہوئی آگ ہی میں جھونک دیئے جائیں گے“۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2766 صحیح بخاری
عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ ، أَبِي الْغَيْثِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ، قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ ان سے ثور بن زید مدنی نے بیان کیا ‘ ان سے ابوغیث نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سات گناہوں سے جو تباہ کر دینے والے ہیں بچتے رہو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ‘ جادو کرنا ‘ کسی کی ناحق جان لینا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ لڑائی میں سے بھاگ جانا ‘ پاک دامن بھولی بھالی ایمان والی عورتوں پر تہمت لگانا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2766]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة