بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
كِتَاب الصُّلْحِ
کتاب: صلح کے مسائل کا بیان
Sahih al-Bukhari
Home کتب صحیح بخاری کتاب: صلح کے مسائل کا بیان
# باب احادیث دیکھیں
1
باب: لوگوں میں صلح کرانے کا ثواب۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِصْلاَحِ بَيْنَ النَّاسِ:
Q2690 – 2691
2
باب: دو آدمیوں میں میل ملاپ کرانے کے لیے جھوٹ بولنا گناہ نہیں ہے۔
بَابُ لَيْسَ الْكَاذِبُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ:
2692
3
باب: حاکم لوگوں سے کہے ہم کو لے چلو ہم صلح کرا دیں۔
بَابُ قَوْلِ الإِمَامِ لأَصْحَابِهِ اذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ:
2693
4
باب: اللہ کا یہ فرمان (سورۃ نساء میں) اگر میاں بیوی صلح کر لیں تو صلح ہی بہتر ہے۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَنْ يَصَّالَحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ} :
2694
5
باب: اگر ظلم کی بات پر صلح کریں تو وہ صلح لغو ہے۔
بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ:
2695 – 2697
6
باب: صلح نامہ میں لکھنا کافی ہے یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر فلاں ولد فلاں اور فلاں ولد فلاں نے صلح کی اور خاندان اور نسب نامہ لکھنا ضروری نہیں ہے۔
بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ هَذَا مَا صَالَحَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ. وَفُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ وَإِنْ لَمْ يَنْسُبْهُ إِلَى قَبِيلَتِهِ، أَوْ نَسَبِهِ:
2698 – 2699
7
باب: مشرکین کے ساتھ صلح کرنے کا بیان۔
بَابُ الصُّلْحِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ:
Q2700 – 2
8
باب: دیت پر صلح کرنا (یعنی قصاص معاف کر کے دیت پر راضی ہو جانا)۔
بَابُ الصُّلْحِ فِي الدِّيَةِ:
2703
9
باب: حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرا یہ بیٹا ہے مسلمانوں کا سردار ہے اور شاید اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے۔
بَابُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ»:
Q2704 – 2704
10
باب: کیا امام صلح کے لیے فریقین کو اشارہ کر سکتا ہے؟
بَابُ هَلْ يُشِيرُ الإِمَامُ بِالصُّلْحِ:
2705 – 2706
11
باب: لوگوں میں آپس میں ملاپ کرانے اور انصاف کرنے کی فضیلت کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الإِصْلاَحِ بَيْنَ النَّاسِ وَالْعَدْلِ بَيْنَهُمْ:
2707
12
باب: اگر حاکم صلح کرنے کے لیے اشارہ کرے اور کوئی فریق نہ مانے تو قاعدے کا حکم دے دے۔
بَابُ إِذَا أَشَارَ الإِمَامُ بِالصُّلْحِ فَأَبَى حَكَمَ عَلَيْهِ بِالْحُكْمِ الْبَيِّنِ:
2708
13
باب: میت کے قرض خواہوں اور وارثوں میں صلح کا بیان اور قرض کا اندازہ سے ادا کرنا۔
بَابُ الصُّلْحِ بَيْنَ الْغُرَمَاءِ وَأَصْحَابِ الْمِيرَاثِ وَالْمُجَازَفَةِ فِي ذَلِكَ:
Q2709 – 2709
14
باب: کچھ نقد دے کر قرض کے بدلے صلح کرنا۔
بَابُ الصُّلْحِ بِالدَّيْنِ وَالْعَيْنِ:
2710