بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کسی کے لیے حلال نہیں کہ اپنا دیا ہوا ہدیہ یا صدقہ واپس لے لے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان باب: کسی کے لیے حلال نہیں کہ اپنا دیا ہوا ہدیہ یا صدقہ واپس لے لے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2621 صحیح بخاری
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، وَشُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام اور شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا سعید بن مسیب سے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی کی ہوئی قے کو چاٹنے والا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2621]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2622 صحیح بخاری
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ، كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا عکرمہ سے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم مسلمانوں کو بری مثال نہ اختیار کرنی چاہئے۔ اس شخص کی سی جو اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لے لے، وہ اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے خود چاٹتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2622]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2623 صحیح بخاری
يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، مَالِكٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ مِنْهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تَشْتَرِهِ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا زید بن اسلم سے، ان سے ان کے باپ نے کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے (ایک شخص کو) دیا)۔ جسے میں نے وہ گھوڑا دیا تھا، اس نے اسے دبلا کر دیا۔ اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ اس سے اپنا وہ گھوڑا خرید لوں، میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ شخص وہ گھوڑا سستے داموں پر بیچ دے گا۔ لیکن جب میں نے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تم اسے نہ خریدو، خواہ تمہیں وہ ایک ہی درہم میں کیوں نہ دے۔ کیونکہ اپنے صدقہ کو واپس لینے والا شخص اس کتے کی طرح ہے جو اپنی ہی قے خود چاٹتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2623]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة