بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جو تحفہ واپس نہ کیا جانا چاہئے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان باب: جو تحفہ واپس نہ کیا جانا چاہئے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2582 صحیح بخاری
أَبُو مَعْمَرٍ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسٌ
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَنَاوَلَنِي طِيبًا، قَالَ: كَانَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ، قَالَ: وَزَعَمَ أَنَسٌ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عزرہ بن ثابت انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ نے بیان کیا، عزرہ نے کہا کہ میں ثمامہ بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے خوشبو عنایت فرمائی اور بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ خوشبو کو واپس نہیں کرتے تھے۔ ثمامہ نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ کا گمان تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوشبو کو واپس نہیں فرمایا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2582]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة