بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اس بارے میں کہ مذی کا دھونا اور اس کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: غسل کے احکام و مسائل باب: اس بارے میں کہ مذی کا دھونا اور اس کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 269 صحیح بخاری
أَبُو الْوَلِيدِ ، زَائِدَةُ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ رَجُلًا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ، فَسَأَلَ، فَقَالَ:" تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے ابوحصین کے واسطہ سے، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ مجھے مذی بکثرت آتی تھی، چونکہ میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی (فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا) تھیں۔ اس لیے میں نے ایک شخص (مقداد بن اسود اپنے شاگرد) سے کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق مسئلہ معلوم کریں انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر اور شرمگاہ کو دھو (یہی کافی ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 269]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة