بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: لقطہٰ کو بتلانا لیکن حاکم کے سپرد نہ کرنا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: لقطہ یعنی گری پڑی چیزوں کے بارے میں احکام باب: لقطہٰ کو بتلانا لیکن حاکم کے سپرد نہ کرنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2438 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، رَبِيعَةَ ، يَزِيدَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللُّقَطَةِ؟ قَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعِفَاصِهَا وَوِكَائِهَا، وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْ بِهَا، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ، وَقَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، دَعْهَا حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ: هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ربیعہ سے، ان سے منبعث کے غلام یزید نے، اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ، اگر کوئی ایسا شخص آ جائے جو اس کی بناوٹ اور بندھن کے بارے میں صحیح صحیح بتائے (تو اسے دیدے) ورنہ اپنی ضروریات میں اسے خرچ کر۔ انہوں نے جب ایسے اونٹ کے متعلق بھی پوچھا جو راستہ بھول گیا ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور اس کے کھر موجود ہیں۔ وہ خود پانی تک پہنچ سکتا ہے۔ اور درخت کے پتے کھا سکتا ہے اور اس طرح وہ اپنے مالک تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے راستہ بھولی ہوئی بکری کے متعلق بھی پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یا وہ تمہاری ہو گی یا تمہارے بھائی (اصل مالک) کو مل جائے گی۔ ورنہ اسے بھیڑیا اٹھا لے جائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فِي اللُّقَطَةِ/حدیث: 2438]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة