سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ، فَأَغْلَظَ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا، ثُمَّ قَالَ: أَعْطُوهُ سِنًّا مِثْلَ سِنِّهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا نَجِدُ إِلَّا أَمْثَلَ مِنْ سِنِّهِ، فَقَالَ: أَعْطُوهُ، فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (اپنے قرض کا) تقاضا کرنے آیا، اور سخت گفتگو کرنے لگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غصہ ہو کر اس کی طرف بڑھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔ کیونکہ جس کا کسی پر حق ہو تو وہ (بات) کہنے کا بھی حق رکھتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قرض والے جانور کی عمر کا ایک جانور اسے دے دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس سے زیادہ عمر کا جانور تو موجود ہے۔ (لیکن اس عمر کا نہیں) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہی دے دو۔ کیونکہ سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو دوسروں کا حق پوری طرح ادا کر دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَكَالَةِ/حدیث: 2306]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة