بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کپڑے میں تھوک اور رینٹ وغیرہ لگ جانے کے بارے میں۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: وضو کے بیان میں باب: کپڑے میں تھوک اور رینٹ وغیرہ لگ جانے کے بارے میں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q241 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قَالَ عُرْوَةُ: عَنْ الْمِسْوَرِ، وَمَرْوَانَ، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ حُدَيْبِيَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَمَا تَنَخَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ.
‏‏‏‏ عروہ نے مسور اور مروان سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں نکلے (اس سلسلہ میں) انہوں نے پوری حدیث ذکر کی (اور پھر کہا) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جتنی مرتبہ بھی تھوکا وہ (تھوک) لوگوں کی ہتھیلی پر پڑا۔ پھر وہ لوگوں نے اپنے چہروں اور بدن پر مل لیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: Q241]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 241 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسِ ، ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ، قَالَ:" بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبِهِ"، طَوَّلَهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے حمید کے واسطے سے بیان کیا، وہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ایک مرتبہ) اپنے کپڑے میں تھوکا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا کہ سعید بن ابی مریم نے اس حدیث کو طوالت کے ساتھ بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو خبر دی یحییٰ بن ایوب نے، کہا مجھ سے حمید نے بیان کیا، کہا میں نے انس سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 241]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة