أَبُو نُعَيْمٍ ، زَكَرِيَّاءُ ، عَامِرٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ:" دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ عامر سے وہ عروہ بن مغیرہ سے، وہ اپنے باپ (مغیرہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا، تو میں نے چاہا (کہ وضو کرتے وقت) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موزے اتار ڈالوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں رہنے دو۔ چونکہ جب میں نے انہیں پہنا تھا تو میرے پاؤں پاک تھے۔ (یعنی میں وضو سے تھا) پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان پر مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 206]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة