سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا" أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، انْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى السُّوقِ فَيُحَامِلُ فَيُصِيبُ الْمُدَّ، وَإِنَّ لِبَعْضِهِمْ لَمِائَةَ أَلْفٍ، قَالَ: مَا تَرَاهُ إِلَّا نَفْسَهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ (یحییٰ بن سعید قریش) نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شفیق نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو بعض لوگ بازاروں میں جا کر بوجھ اٹھاتے جن سے ایک مد مزدوری ملتی (وہ اس میں سے بھی صدقہ کرتے) آج ان میں سے کسی کے پاس لاکھ لاکھ (درہم یا دینار) موجود ہیں۔ شفیق نے کہا ہمارا خیال ہے کہ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کسی سے اپنے ہی تیئں مراد لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِجَارَةِ/حدیث: 2273]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة