بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کسی بھی نیک مرد کو مزدوری پر لگانا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: اجرت کے مسائل کا بیان باب: کسی بھی نیک مرد کو مزدوری پر لگانا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q2260 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الأَمِينُ سورة القصص آية 26، وَالْخَازِنُ الْأَمِينُ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَعْمِلْ مَنْ أَرَادَهُ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ اچھا مزدور جس کو تو رکھے وہ ہے جو زور دار، امانت دار ہو، اور امانت دار خزانچی کا ثواب اور اس کا بیان کہ جو شخص حکومت کی درخواست کرے اس کو حاکم نہ بنایا جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِجَارَةِ/حدیث: Q2260]
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2260 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي بُرْدَةَ ، جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ یزید بن عبداللہ نے کہا کہ میرے دادا، ابوبردہ عامر نے مجھے خبر دی اور انہیں ان کے باپ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، امانت دار خزانچی جو اس کو حکم دیا جائے، اس کے مطابق دل کی فراخی کے ساتھ (صدقہ ادا کر دے) وہ بھی ایک صدقہ کرنے والوں ہی میں سے ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِجَارَةِ/حدیث: 2260]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2261 صحیح بخاری
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، أَبُو بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَقُلْتُ: مَا عَمِلْتُ، أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، فَقَالَ:" لَنْ، أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے قرۃ بن خالد نے کہا کہ مجھ سے حمید بن ہلال نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ میرے ساتھ (میرے قبیلہ) اشعر کے دو مرد اور بھی تھے۔ میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ دونوں صاحبان حاکم بننے کے طلب گار ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حاکم بننے کا خود خواہشمند ہو، اسے ہم ہرگز حاکم نہیں بنائیں گے۔ (یہاں راوی کو شک ہے کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لفظ «لن» یا لفظ «لا» استعمال فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِجَارَةِ/حدیث: 2261]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة