بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: دباغت سے پہلے مردار کی کھال (کا بیچنا جائز ہے یا نہیں؟)۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب: دباغت سے پہلے مردار کی کھال (کا بیچنا جائز ہے یا نہیں؟)۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2221 صحیح بخاری
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ:" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟ قَالُوا: إِنَّهَا مَيِّتَةٌ، قَالَ: إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک مردہ بکری پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے چمڑے سے تم لوگوں نے کیوں نہیں فائدہ اٹھایا؟ صحابہ نے عرض کیا، کہ وہ تو مردار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مردار کا صرف کھانا منع ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2221]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة