اللَّيْثُ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
قَالَ اللَّيْثُ:حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ ثَمَرًا قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، ثُمَّ أَصَابَتْهُ عَاهَةٌ؟ كَانَ مَا أَصَابَهُ عَلَى رَبِّهِ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، وَلَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
لیث نے کہا کہ مجھے سے یونس نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے اگر پختہ ہونے سے پہلے ہی (درخت پر) پھل خریدے، پھر ان پر کوئی آفت آ گئی تو جتنا نقصان ہوا، وہ سب اصل مالک کو بھرنا پڑے گا۔ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو، اور نہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں بیچو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2199]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة