مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَتْ آخِرُ الْبَقَرَةِ، قَرَأَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب (سورۃ) بقرہ کی آخری آیتیں «الذين يأكلون الربا *** الخ» نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں صحابہ رضی اللہ عنہم کو مسجد میں پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد ان پر شراب کی تجارت حرام کر دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2084]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة