بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اعتکاف والا اپنے اوپر سے کسی بدگمانی کو دور کر سکتا ہے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: اعتکاف کے مسائل کا بیان باب: اعتکاف والا اپنے اوپر سے کسی بدگمانی کو دور کر سکتا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2039 صحیح بخاری
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخِي ، سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ ، عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيَّ ، عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، صَفِيَّةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ أَخْبَرَتْهُ. ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ:" أَنَّ صَفِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَلَمَّا رَجَعَتْ مَشَى مَعَهَا، فَأَبْصَرَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا أَبْصَرَهُ، دَعَاهُ، فَقَالَ: تَعَالَ، هِيَ صَفِيَّةُ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: هَذِهِ صَفِيَّةُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: أَتَتْهُ لَيْلًا، قَالَ: وَهَلْ هُوَ إِلَّا لَيْلٌ؟".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے بھائی نے خبر دی، انہیں سلیمان نے، انہیں محمد بن ابی عتیق نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی (دوسری سند) اور ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا۔ وہ علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے خبر دیتے تھے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت اعتکاف میں تھے۔ پھر جب وہ واپس ہونے لگیں تو آپ بھی ان کے ساتھ (تھوڑی دور تک انہیں چھوڑنے) آئے۔ (آتے ہوئے) ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر ان پر پڑی، تو فوراً آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بلایا، کہ سنو! یہ (میری بیوی) صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ (سفیان نے ہی صفیہ کے بجائے بعض اوقات «هذه صفية» کے الفاظ کہے۔ (اس کی وضاحت اس لیے ضروری سمجھی) کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔ میں (علی بن عبداللہ) نے سفیان سے پوچھا کہ غالباً وہ رات کو آئی ہوں گی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رات کے سوا اور وقت ہی کون سا ہو سکتا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِكَافِ/حدیث: 2039]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة