بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اگر ناواقفیت کی وجہ سے کوئی کرتہ پہنے ہوئے احرام باندھے؟
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: شکار کے بدلے کا بیان باب: اگر ناواقفیت کی وجہ سے کوئی کرتہ پہنے ہوئے احرام باندھے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q1847 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ عَطَاءٌ: إِذَا تَطَيَّبَ، أَوْ لَبِسَ جَاهِلًا، أَوْ نَاسِيًا، فَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ.
‏‏‏‏ اور عطاء بن ابی رباح نے کہا ناواقفیت میں یا بھول کر اگر کوئی محرم شخص خوشبو لگائے، سلا ہوا کپڑا پہن لے تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: Q1847]
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1847 صحیح بخاری
أَبُو الْوَلِيدِ ، هَمَّامٌ ، عَطَاءٌ ، صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ، فِيهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، أَوْ نَحْوُهُ، كَانَ عُمَرُ، يَقُولُ لِي: تُحِبُّ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَنْ تَرَاهُ؟ فَنَزَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ہم سے عطاء نے بیان کیا، کہا مجھ سے صفوان بن یعلیٰ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص جو جبہ پہنے ہوئے تھا حاضر ہوا اور اس پر زردی یا اسی طرح کی کسی خوشبو کا نشان تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے کہا کرتے تھے کیا تم چاہتے ہو کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگے تو تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ سکو؟ اس وقت آپ پر وحی نازل ہوئی پھر وہ حالت جاتی رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح اپنے حج میں کرتے ہو اسی طرح عمرہ میں بھی کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1848 صحیح بخاری
وَعَضَّ رَجُلٌ يَدَ رَجُلٍ يَعْنِي فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَبْطَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
‏‏‏‏ ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تھا، دوسرے نے جو اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت اکھڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا کوئی بدلہ نہیں دلوایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1848]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة