بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: احرام والے مرد اور عورت کو خوشبو لگانا منع ہے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: شکار کے بدلے کا بیان باب: احرام والے مرد اور عورت کو خوشبو لگانا منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q1838 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَا تَلْبَسْ الْمُحْرِمَةُ ثَوْبًا بِوَرْسٍ أَوْ زَعْفَرَانٍ.
‏‏‏‏ اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ محرم عورت ورس یا زعفران میں رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: Q1838]
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1838 صحیح بخاری
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، اللَّيْثُ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، وَجُوَيْرِيَةُ ، وَابْنُ إِسْحَاقَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ، وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ، وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ"، تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، وَجُوَيْرِيَةُ، وَابْنُ إِسْحَاقَ فِي النِّقَابِ وَالْقُفَّازَيْنِ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَلَا وَرْسٌ، وَكَانَ يَقُولُ: لَا تَتَنَقَّبْ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ، وَقَالَ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: لَا تَتَنَقَّبْ الْمُحْرِمَةُ، وَتَابَعَهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ! حالت احرام میں ہمیں کون سے کپڑے پہننے کی اجازت دیتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قمیص پہنو نہ پاجامے، نہ عمامے اور نہ برنس۔ اگر کسی کے جوتے نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر پہن لے۔ اسی طرح کوئی ایسا لباس نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہو۔ احرام کی حالت میں عورتیں منہ پر نقاب نہ ڈالیں اور دستانے بھی نہ پہنیں۔ لیث کے ساتھ اس روایت کی متابعت موسیٰ بن عقبہ اور اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اور جویریہ اور ابن اسحاق نے نقاب اور دستانوں کے ذکر کے سلسلے میں کی ہے۔ عبیداللہ رحمہ اللہ نے «ولا ورس» کا لفظ بیان کیا وہ کہتے تھے کہ احرام کی حالت میں عورت منہ پر نہ نقاب ڈالے اور نہ دستانے استعمال کرے اور امام مالک نے نافع سے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ احرام کی حالت میں عورت نقاب نہ ڈالے اور لیث بن ابی سلیم نے مالک کی طرح روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1838]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1839 صحیح بخاری
قُتَيْبَةُ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، الْحَكَمِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے حکم نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک محرم شخص کے اونٹ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اس کی گردن (گرا کر) توڑ دی اور اسے جان سے مار دیا، اس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ انہیں غسل اور کفن دے دو لیکن ان کا سر نہ ڈھکو اور نہ خوشبو لگاؤ کیونکہ (قیامت میں) یہ لبیک کہتے ہوئے اٹھے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1839]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة