أَبُو نُعَيْمٍ ، سَيْفٌ ، مُجَاهِدٌ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ:" وَقَفَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَرَأْسِي يَتَهَافَتُ قَمْلًا، فَقَالَ: يُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، أَوْ قَالَ: احْلِقْ، قَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196، إِلَى آخِرِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةٍ، أَوِ انْسُكْ بِمَا تَيَسَّرَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیبیہ میں میرے پاس آ کر کھڑے ہوئے تو جوئیں میرے سر سے برابر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ جوئیں تو تمہارے لیے تکلیف دہ ہیں۔ میں نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر سر منڈا لے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف یہ لفظ فرمایا کہ منڈا لے۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی کہ ”اگر تم میں کوئی مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو“ آخر آیت تک، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین دن کے روزے رکھ لے یا ایک فرق غلہ سے چھ مسکینوں کو کھانا دے یا جو میسر ہو اس کی قربانی کر دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُحْصَرِ/حدیث: 1815]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة