بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: منیٰ کے دنوں میں خطبہ سنانا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: حج کے مسائل کا بیان باب: منیٰ کے دنوں میں خطبہ سنانا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1739 صحیح بخاری
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عِكْرِمَةُ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ , أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ , قَالُوا: يَوْمٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ , قَالُوا: بَلَدٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فَأَعَادَهَا مِرَارًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ" , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَوَصِيَّتُهُ إِلَى أُمَّتِهِ، فَلْيُبْلِغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے فضل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ دسویں تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منیٰ میں خطبہ دیا، خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا لوگو! آج کون سا دن ہے؟ لوگ بولے یہ حرمت کا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر پوچھا اور یہ شہر کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا شہر ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حرمت کا مہینہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بس تمہارا خون تمہارے مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت، اس شہر اور اس مہینہ کی حرمت ہے، اس کلمہ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کئی بار دہرایا اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) پہنچا دیا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ وصیت اپنی تمام امت کے لیے ہے، لہٰذا حاضر (اور جاننے والے) غائب (اور ناواقف لوگوں کو اللہ کا پیغام) پہنچا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا دیکھو میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1739]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1740 صحیح بخاری
حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، عَمْرٌو ، جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ" تَابَعَهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی، کہا کہ میں نے جابر بن زید سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ میدان عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خطبہ میں نے خود سنا تھا۔ اس کی متابعت ابن عیینہ نے عمرو سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1740]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1741 صحیح بخاری
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو عَامِرٍ ، قُرَّةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِي بَكْرَةَ ، حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَوَرَجُلٌ أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ , قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ , قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ ذُو الْحَجَّةِ، قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: أَيُّ بَلَدٍ هَذَا، قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: أَلَيْسَتْ بِالْبَلْدَةِ الْحَرَامِ؟ , قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ، فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے قرہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ایک اور شخص نے جو میرے نزدیک عبدالرحمٰن سے بھی افضل ہے یعنی حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ سنایا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا لوگو! معلوم ہے آج یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں۔ ہم بولے ہاں ضرور ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ مہینہ کون سا ہے؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے لیے۔ آپ اس مرتبہ بھی خاموش ہو گئے اور ہمیں خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس مہینہ کا نام کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم بولے کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ شہر کون سا ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح خاموش ہو گئے کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی کیوں نہیں ضرور ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس تمہارا خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے، تاآنکہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ کہو کیا میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو گواہ رہنا اور ہاں! یہاں موجود غائب کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے لوگ جن تک یہ پیغام پہنچے گا سننے والوں سے زیادہ (پیغام کو) یاد رکھنے والے ثابت ہوں گے اور میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی (ناحق) گردنیں مارنے لگو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1741]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1742 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ ، هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى:" أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ , قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ: فَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ، أَفَتَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: بَلَدٌ حَرَامٌ، أَفَتَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ , قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: شَهْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا" , وَقَالَ هِشَامُ بْنُ الْغَازِ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ بِهَذَا، وَقَالَ: هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ وَوَدَّعَ النَّاسَ، فَقَالُوا: هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو عاصم بن محمد بن زید نے خبر دی، انہیں ان کے باپ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا کہ تم کو معلوم ہے! آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا دن ہے اور یہ بھی تم کو معلوم ہے کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا شہر ہے اور تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ کون سا مہینہ ہے، لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حرمت کا مہینہ ہے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا خون! تمہارا مال اور عزت ایک دوسرے پر (ناحق) اس طرح حرام کر دی ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینہ اور اس شہر میں ہے۔ ہشام بن غاز نے کہا کہ مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجۃ الوداع میں دسویں تاریخ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ دیکھو! یہ ( «يوم النحر») حج اکبر کا دن ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرمانے لگے کہ اے اللہ! گواہ رہنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر چونکہ لوگوں کو رخصت کیا تھا۔ (آپ سمجھ گئے کہ وفات کا زمانہ آن پہنچا) جب سے لوگ اس حج کو حجۃ الوداع کہنے لگے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1742]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة