بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مزدلفہ سے کب چلا جائے؟
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: حج کے مسائل کا بیان باب: مزدلفہ سے کب چلا جائے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1684 صحیح بخاری
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يَقُولُ: شَهِدْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى بِجَمْعٍ الصُّبْحَ، ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ:" إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَيَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ، ثُمَّأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، انہوں نے عمرو بن میمون کو یہ کہتے سنا کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھی تو میں بھی موجود تھا، نماز کے بعد آپ ٹھہرے اور فرمایا کہ مشرکین (جاہلیت میں یہاں سے) سورج نکلنے سے پہلے نہیں جاتے تھے کہتے تھے اے ثبیر! تو چمک جا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرکوں کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے روانہ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1684]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة