عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، مَالِكٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أُسَامَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا جَالِسٌ،" كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ" , قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: فَجْوَةٌ مُتَّسَعٌ، وَالْجَمِيعُ فَجَوَاتٌ وَفِجَاءٌ، وَكَذَلِكَ رَكْوَةٌ وَرِكَاءٌ مَنَاصٌ لَيْسَ حِينَ فِرَارٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا (میں بھی وہیں موجود تھا) کہ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے واپس ہونے کی چال کیا تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پاؤں اٹھا کر چلتے تھے ذرا تیز، لیکن جب جگہ پاتے (ہجوم نہ ہوتا) تو تیز چلتے تھے، ہشام نے کہا کہ «عنق» تیز چلنا اور «نص» «عنق» سے زیادہ تیز چلنے کو کہتے ہیں۔ «فجوة» کے معنی کشادہ جگہ، اس کی جمع «فجوات» اور «فجاء» ہے جیسے زکوٰۃ مفرد «زكاء» اس کی جمع اور سورۃ ص میں «مناص» کا جو لفظ آیا ہے اس کے معنی بھاگنا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1666]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة