بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: میدان عرفات میں ٹھہرنے کا بیان۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: حج کے مسائل کا بیان باب: میدان عرفات میں ٹھہرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1664 صحیح بخاری
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَبِيهِ ، مُسَدَّدٌ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، كُنْتُ أَطْلُبُ بَعِيرًا لِي. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ،" فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَةَ، فَقُلْتُ: هَذَا وَاللَّهِ مِنَ الْحُمْسِ فَمَا شَأْنُهُ هَا هُنَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جبیر بن مطعم نے، ان سے ان کے باپ نے کہ میں اپنا ایک اونٹ تلاش کر رہا تھا (دوسری سند) اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمر بن دینار نے، انہوں نے محمد بن جبیر سے سنا کہ ان کے والد جبیر بن مطعم نے بیان کیا کہ میرا ایک اونٹ کھو گیا تھا تو میں عرفات میں اس کو تلاش کرنے گیا، یہ دن عرفات کا تھا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفات کے میدان میں کھڑے ہیں۔ میری زبان سے نکلا قسم اللہ کی! یہ تو قریش ہیں پھر یہ یہاں کیوں ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1664]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1665 صحیح بخاری
فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ عُرْوَةُ" كَانَ النَّاسُ يَطُوفُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عُرَاةً إِلَّا الْحُمْسَ، وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ، وَمَا وَلَدَتْ، وَكَانَتِ الْحُمْسُ يَحْتَسِبُونَ عَلَى النَّاسِ يُعْطِي الرَّجُلُ الرَّجُلَ الثِّيَابَ يَطُوفُ فِيهَا، وَتُعْطِي الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ الثِّيَابَ تَطُوفُ فِيهَا، فَمَنْ لَمْ يُعْطِهِ الْحُمْسُ طَافَ بالبيت عُرْيَانًا، وَكَانَ يُفِيضُ جَمَاعَةُ النَّاسِ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَيُفِيضُ الْحُمْسُ مِنْ جَمْعٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي الْحُمْسِ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199، قَالَ: كَانُوا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ فَدُفِعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حمس کے سوا بقیہ سب لوگ جاہلیت میں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے، حمس قریش اور اس کی آل اولاد کو کہتے تھے، (اور بنی کنانہ وغیرہ، جیسے خزاعہ) لوگوں کو (اللہ کے واسطے) کپڑے دیا کرتے تھے۔ (قریش) کے مرد دوسرے مردوں کو تاکہ انہیں پہن کر طواف کر سکیں اور (قریش کی) عورتیں دوسری عورتوں کو تاکہ وہ انہیں پہن کر طواف کر سکیں، اور جن کو قریش کپڑا نہیں دیتے وہ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے۔ دوسرے سب لوگ تو عرفات سے واپس ہوتے لیکن قریش مزدلفہ ہی سے (جو حرم میں تھا) واپس ہو جاتے۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ میرے باپ عروہ بن زبیر نے مجھے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ یہ آیت قریش کے بارے میں نازل ہوئی کہ پھر تم بھی (قریش) وہیں سے واپس آؤ جہاں سے اور لوگ واپس آتے ہیں (یعنی عرفات سے، سورۃ البقرہ) انہوں نے بیان کیا کہ قریش مزدلفہ ہی سے لوٹ آتے تھے اس لیے انہیں بھی عرفات سے لوٹنے کا حکم ہوا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1665]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة