بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: زکوۃ کے مسائل کا بیان باب: لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q1434 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَبْدَةَ، وَقَالَ: لَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے عبدہ نے یہی حدیث روایت کی کہ گننے نہ لگ جانا ورنہ پھر اللہ بھی تجھے گن گن کر ہی دے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: Q1434]
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1431 صحیح بخاری
مُسْلِمٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيٌّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَدِيٌّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ، ثُمَّ مَالَ عَلَى النِّسَاءِ , وَمَعَهُ بِلَالٌ فَوَعَظَهُنَّ , وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُلْبَ وَالْخُرْصَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن جبیر نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عید کے دن نکلے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (عیدگاہ میں) دو رکعت نماز پڑھائی۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عورتوں کی طرف آئے۔ بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ انہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کے لیے حکم فرمایا۔ چنانچہ عورتیں کنگن اور بالیاں (بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1431]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1432 صحیح بخاری
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ السَّائِلُ أَوْ طُلِبَتْ إِلَيْهِ حَاجَةٌ , قَالَ: اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا، وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ان کے باپ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اگر کوئی مانگنے والا آتا یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کوئی حاجت پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام سے فرماتے کہ تم سفارش کرو کہ اس کا ثواب پاؤ گے اور اللہ پاک اپنے نبی کی زبان سے جو فیصلہ چاہے گا وہ دے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1432]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1433 صحیح بخاری
صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَبْدَةُ ، هِشَامٍ ، فَاطِمَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبدہ نے ہشام سے خبر دی ’ انہیں ان کی بیوی فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ خیرات کو مت روک ورنہ تیرا رزق بھی روک دیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1433]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة