عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، شُعْبَةُ ، مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" تَصَدَّقُوا، فَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ لقَبِلْتُهَا مِنْكَ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے معبد بن خالد نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ صدقہ کیا کرو پس عنقریب ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جب آدمی اپنا صدقہ لے کر نکلے گا (کوئی اسے قبول کر لے مگر جب وہ کسی کو دے گا تو وہ) آدمی کہے گا کہ اگر اسے تم کل لائے ہوتے تو میں لے لیتا لیکن آج مجھے اس کی حاجت نہیں رہی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1424]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة