بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کس طرح کے نوحہ و بکا سے منع کرنا اور اس پر جھڑکنا چاہیے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: کس طرح کے نوحہ و بکا سے منع کرنا اور اس پر جھڑکنا چاہیے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1305 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَمْرَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , تَقُولُ: لَمَّا جَاءَ قَتْلُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ , فَأَمَرَهُ بِأَنْ يَنْهَاهُنَّ , فَذَهَبَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَى , فَقَالَ: قَدْ نَهَيْتُهُنَّ وَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ , فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ , فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَى , فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنِي أَوْ غَلَبْنَنَا الشَّكُّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، فَزَعَمَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ , فَقُلْتُ: أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ فَوَاللَّهِ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبوالوہاب ثقفی نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، کہا کہ مجھے عمرہ بنت عبدالرحمٰن انصاری نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ نے فرمایا کہ جب زید بن حارثہ ‘ جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح بیٹھے کہ غم کے آثار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے پر نمایاں تھے میں دروازے کے ایک سوراخ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! جعفر کے گھر کی عورتیں نوحہ اور ماتم کر رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روکنے کے لیے کہا۔ وہ صاحب گئے لیکن پھر واپس آ گئے اور کہا کہ وہ نہیں مانتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ روکنے کے لیے بھیجا۔ وہ گئے اور پھر واپس چلے آئے۔ کہا کہ بخدا وہ تو مجھ پر غالب آ گئی ہیں یا یہ کہا کہ ہم پر غالب آ گئی ہیں۔ شک محمد بن حوشب کو تھا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میرا یقین یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دے۔ اس پر میری زبان سے نکلا کہ اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے تو نہ تو وہ کام کر سکا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا تھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکلیف دینا چھوڑتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1305]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1306 صحیح بخاری
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، أُمِّ عَطِيَّةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" أَخَذَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ غَيْرَ خَمْسِ نِسْوَةٍ أُمِّ سُلَيْمٍ وَأُمِّ الْعَلَاءِ وَابْنَةِ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةِ مُعَاذٍ وَامْرَأَتَيْنِ أَوْ ابْنَةِ أَبِي سَبْرَةَ وَامْرَأَةِ مُعَاذٍ وَامْرَأَةٍ أُخْرَى".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے محمد نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیعت لیتے وقت ہم سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ ہم (میت پر) نوحہ نہیں کریں گی۔ لیکن اس اقرار کو پانچ عورتوں کے سوا اور کسی نے پورا نہیں کیا۔ یہ عورتیں ام سلیم ‘ ام علاء ‘ ابوسبرہ کی صاحبزادی جو معاذ کے گھر میں تھیں اور اس کے علاوہ دو عورتیں یا (یہ کہا کہ) ابوسبرہ کی صاحبزادی، معاذ کی بیوی اور ایک دوسری خاتون (رضی اللہ عنہن)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1306]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة