بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جو شخص مصیبت کے وقت (اپنے نفس پر زور ڈال کر) اپنا رنج ظاہر نہ کرے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: جو شخص مصیبت کے وقت (اپنے نفس پر زور ڈال کر) اپنا رنج ظاہر نہ کرے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q1301 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ الْجَزَعُ: الْقَوْلُ السَّيِّئُ , وَالظَّنُّ السَّيِّئُ وَقَالَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ السَّلَام: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ.
‏‏‏‏ اور محمد بن کعب قرظی نے کہا کہ «جزع» اس کو کہتے ہیں کہ بری بات منہ سے نکالنا اور پروردگار سے بدگمانی کرنا ‘ اور یعقوب علیہ السلام نے کہا تھا «‏‏‏‏إنما أشكو بثي وحزني إلى الله‏» میں تو اس بےقراری اور رنج کا شکوہ اللہ ہی سے کرتا ہوں۔ (سورۃ یوسف) [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: Q1301]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1301 صحیح بخاری
بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ:" اشْتَكَى ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ , قَالَ: فَمَاتَ وَأَبُو طَلْحَةَ خَارِجٌ، فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ هَيَّأَتْ شَيْئًا وَنَحَّتْهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ , قَالَ: كَيْفَ الْغُلَامُ؟ قَالَتْ: قَدْ هَدَأَتْ نَفْسُهُ , وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدِ اسْتَرَاحَ، وَظَنَّ أَبُو طَلْحَةَ أَنَّهَا صَادِقَةٌ , قَالَ: فَبَاتَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ اغْتَسَلَ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَعْلَمَتْهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ مِنْهُمَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُبَارِكَ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا"، قَالَ سُفْيَانُ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: فَرَأَيْتُ لَهُمَا تِسْعَةَ أَوْلَادٍ كُلُّهُمْ قَدْ قَرَأَ الْقُرْآنَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے بشر بن حکم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا ‘ کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے بتلایا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بچہ بیمار ہو گیا انہوں نے کہا کہ اس کا انتقال بھی ہو گیا۔ اس وقت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہ تھے۔ ان کی بیوی (ام سلیم رضی اللہ عنہا) نے جب دیکھا کہ بچے کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے کچھ کھانا تیار کیا اور بچے کو گھر کے ایک کونے میں لٹا دیا۔ جب ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے پوچھا کہ بچے کی طبیعت کیسی ہے؟ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اسے آرام مل گیا ہے اور میرا خیال ہے کہ اب وہ آرام ہی کر رہا ہو گا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ وہ صحیح کہہ رہی ہیں۔ (اب بچہ اچھا ہے) پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری اور جب صبح ہوئی تو غسل کیا لیکن جب باہر جانے کا ارادہ کیا تو بیوی (ام سلیم رضی اللہ عنہا) نے اطلاع دی کہ بچے کا انتقال ہو چکا ہے۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ سے ام سلیم رضی اللہ عنہا کا حال بیان کیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ شاید اللہ تعالیٰ تم دونوں کو اس رات میں برکت عطا فرمائے گا۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ انصار کے ایک شخص نے بتایا کہ میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی انہیں بیوی سے نو بیٹے دیکھے جو سب کے سب قرآن کے عالم تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1301]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة