بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: جنازے کے احکام و مسائل باب: میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1258 صحیح بخاری
حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، أُمِّ عَطِيَّةَ ، أَيُّوبَ ، حَفْصَةَ ، أُمِّ عَطِيَّةَ
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ:" تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ"، وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک بیٹی کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ پانی اور بیری کے پتوں سے نہلاؤ اور آخر میں کافور یا (یہ کہا کہ) کچھ کافور کا بھی استعمال کرنا۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دینا۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے کہلا بھجوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا تہبند ہمیں دیا اور فرمایا کہ اسے اندر جسم پر لپیٹ دو۔ ایوب نے حفصہ بنت سیرین سے روایت کی، ان سے ام عطیہ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1258]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1259 صحیح بخاری
وَقَالَتْ: إِنَّهُ قَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ سَبْعًا , أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ، قَالَتْ حَفْصَةُ: قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے اس روایت میں یوں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تین یا پانچ یا سات مرتبہ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ غسل دے سکتی ہو۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم نے ان کے سر کے بال تین لٹوں میں تقسیم کر دیئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة