بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سہو کے سجدوں کے بعد پھر تشہد نہ پڑھے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: سجدہ سھو کا بیان باب: سہو کے سجدوں کے بعد پھر تشہد نہ پڑھے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q1228 Q1229 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَسَلَّمَ أَنَسٌ وَالْحَسَنُ وَلَمْ يَتَشَهَّدَا , وَقَالَ قَتَادَةُ لَا يَتَشَهَّدُ.
‏‏‏‏ اور انس رضی اللہ عنہ اور حسن بصری رحمہ اللہ نے سلام پھیرا (یعنی سجدہ سہو کے بعد) اور تشہد نہیں پڑھا اور قتادہ نے کہا کہ تشہد نہ پڑھے۔ [صحيح البخاري/كتاب السهو/حدیث: Q1228]
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبً، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ , قَالَ: قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ فِي سَجْدَتَيِ: السَّهْوِ تَشَهُّدٌ، قَالَ: لَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن علقمہ نے، انہوں کہا کہ میں نے محمد بن سیرین سے پوچھا کہ کیا سجدہ سہو میں تشہد ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں تو اس کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب السهو/حدیث: Q1229]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1228 صحیح بخاری
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟، فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی نے خبر دی، انہیں محمد بن سیرین نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعت پڑھ کر اٹھ کھڑے ہوئے تو ذوالیدین نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ذوالیدین سچ کہتے ہیں۔ لوگوں نے کہا جی ہاں! یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعت جو رہ گئی تھیں ان کو پڑھا، پھر سلام پھیرا، پھر «الله اكبر» کہا اور اپنے سجدے کی طرح (یعنی نماز کے معمولی سجدے کی طرح) سجدہ کیا یا اس سے لمبا پھر سر اٹھایا۔ [صحيح البخاري/كتاب السهو/حدیث: 1228]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة