بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جو شخص رات کے شروع میں سو جائے اور اخیر میں جاگے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: تہجد کا بیان باب: جو شخص رات کے شروع میں سو جائے اور اخیر میں جاگے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q1146 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ سَلْمَانُ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: نَمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ: قُمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ سَلْمَانُ.
اور سلمان فارسی نے ابودرداء (رضی اللہ عنہما) سے فرمایا کہ شروع رات میں سو جا اور آخر رات میں عبادت کر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا تھا کہ سلمان نے بالکل سچ کہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: Q1146]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1146 صحیح بخاری
أَبُو الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ بِهِ حَاجَةٌ اغْتَسَلَ وَإِلَّا تَوَضَّأَ وَخَرَجَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، (دوسری سند) اور مجھ سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے، ان سے اسود بن یزید نے، انہوں نے بتلایا کہ میں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات میں نماز کیونکر پڑھتے تھے؟ آپ نے بتلایا کہ شروع رات میں سو رہتے اور آخر رات میں بیدار ہو کر تہجد کی نماز پڑھتے۔ اس کے بعد بستر پر آ جاتے اور جب مؤذن اذان دیتا تو جلدی سے اٹھ بیٹھتے۔ اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل کرتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1146]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة