مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ بِمَكَّةَ فَسَجَدَ فِيهَا وَسَجَدَ مَنْ مَعَهُ غَيْرَ شَيْخٍ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ، وَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا، فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور ان سے ابواسحاق نے انہوں نے کہا کہ میں نے اسود سے سنا انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورۃ النجم کی تلاوت کی اور سجدہ تلاوت کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جتنے آدمی تھے (مسلمان اور کافر) ان سب نے بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا البتہ ایک بوڑھا شخص (امیہ بن خلف) اپنے ہاتھ میں کنکری یا مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی تک لے گیا اور کہا میرے لیے یہی کافی ہے میں نے دیکھا کہ بعد میں وہ بوڑھا حالت کفر میں ہی مارا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب سُجُودِ الْقُرْآنِ/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة