إِسْمَاعِيلُ ، مَالِكٌ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید انصاری سے بیان کیا، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے، ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس کچھ مانگنے آئی۔ اس نے کہا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ قبر کے عذاب سے بچائے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کیا قبر میں بھی عذاب ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (یہ سن کر) فرمایا کہ میں اللہ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْكُسُوف/حدیث: 1055]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة