عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبدالرحمٰن بن عابس سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے عیدالفطر یا عید الاضحی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر عورتوں کی طرف آئے اور انہیں نصیحت فرمائی اور صدقہ کے لیے حکم فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 975]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة